دودھ، چھاچھ، شور بہ سے وضو
سوال
دودھ، چھاچھ، تیل وغیرہ سے وضو درست ہے یا نہیں؟ یا جس پانی میں دودھ یا چھاچھ غالب ہو از روئے رنگ در انحالیکہ صفت سیلان باقی ہے، اسی طریقے سے ہلدی پانی کے اندر ڈال کر غسل کرتے ہیں فقہاء کرام یہ جو لکھتے ہیں کہ جب پاک شئی پانی کے اندر مل جائے جیسے صابون وغیرہ تو جب تک صفت سیلان باقی ہو اس سے وضو غسل درست ہے۔ تو وہ شور با جس کے اوپر روغن کا نام و نشان نہ ہو اس سے وضو کرنا کیسا ہے؟ یا اس کے مثل سے؟
جواب
جو چیز پانی میں ملائی جائے اور اس کے ملانے سے پانی کے سیلان ورقت میں فرق نہ آئے اور وہ چیز جامد ہو تو ایسے پانی سے وضو اور غسل درست ہے، اگر مائع ملایا جائے تو اگر اسمیں تین اوصاف تھے تو دو وصف ظاہر ہونے پر، اگر دو وصف تھے تو ایک وصف ظاہر ہونے پر، اگر کوئی وصف نہیں تھا تو اسکے نصف یا نصف سے زائد ہو جانے پر اس پانی سے وضو اور غسل درست نہیں،
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔