جس پانی کے اوصاف بدل گئے ہوں اس سے وضو
سوال
ایک گاؤں میں ایک بہت بڑا گڑھا ہے اور اس میں پانی بھی بہت ہے مگر بوجہ آمد و رفت چارپایوں کے اس کے تین اوصاف میں سے ایک وصف بدل جاتا ہے اور اصحاب قریہ کو بغیر اس کے وضو کرنے کیلئے اور پانی نہیں ملتا سوا اس کے کہ دوسرے گاؤں میں سے لائیں باقی وہ اپنے پینے کیلئے تو لا سکتے ہیں مگر اس سے زیادہ نہیں لا سکتے اور کنویں سے بھی غربت کیوجہ سے نہیں نکال سکتے تو اب کیا کریں آیا صرف وضو کر لیں یا وضو مع التیمم کریں یا باہر سے لا کر وضو کریں اگر چہ ان کا نقصان ہو۔
جواب
ایسے پانی سے وضو اور غسل جائز ہے جب کہ وہ دہ دردہ سے بھی زیادہ ہے تو وہ ماء جاری کے حکم میں ہے، کسی وصف کے بدلنے سے اس کا حکم نہیں بدلے گا پس اس پانی کے موجود ہوتے ہوئے تیمم جائز نہیں البتہ اگر اس میں نجاست کا کوئی اثر نمایاں طور پر ظاہر ہو جائے مثلاً تمام پانی میں نجاست کا مزہ آجائے، یا اسکا رنگ غالب ہو جائے تو اس سے وضو جائز نہیں،
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔