اس پانی سے وضو جس کا رنگ ومزہ دوا سے متغیر ہو گیا
سوال
سرکار کی طرف سے دفع ہیضہ وغیرہ امراض کے لئے کنویں میں جو دوا ڈالی جاتی ہے اور اس کی وجہ سے رنگ اور بو بدل جاتی ہے تو اس پانی کا حکم کیا ہے اور رنگ اور بو نہیں بدلتی تو کیا حکم ہے۔ امید ہے کہ جواب شافی اور کافی سے مطلع فرما کر شاکر فرمائیں۔ -
جواب
اگر کسی پاک جامد چیز کے ملنے سے پانی کے تمام اوصاف بغیر پکائے متغیر ہو جائیں لیکن پانی اپنی رقت اور سیلان پر باقی رہے اور اس کا نام بدل کر نیا نام پیدا ہو تو ایسے پانی سے وضوء درست ہے
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔