حضرت ابن مسعود کی طرف سے ذکر جہری کی ممانعت
سوال
کاٹھیاواڑ میں بعد نماز عشاء تمام مساجد میں روزانہ بادام وغیرہ پر درود شریف آیت کریمہ کا وظیفہ پڑھ کر پانی پر دم کر کے تمام مصلیان پیتے ہیں اور وظیفہ پڑھنے والے اور پانی نہ پینے والے کو برا جانتے ہیں۔ یہ بدعت ہے یا نہیں؟ اس بارے میں حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی وہ کون سی حدیث ہے جس میں آپ نے ذکر کرنے والی جماعت کو منع فرمایا ہے نیز بدعت کہا ہے۔ یہ حدیث کونسی کتاب میں ہے؟
جواب
درود شریف کی ترغیب و تاکید قرآن کریم اور حدیث شریف سے ثابت ہے۔ یہ بڑی خیر و برکت اور سعادت کی چیز ہے، ہر مسلمان کو کثرت سے اس کا ورد رکھنا چاہیئے مگر اس کے لئے کوئی نئی صورت ایجاد نہیں کرنی چاہیے بلکہ قرون مشہود لها بالخیر میں اس کا جو طریقہ تھا وہی اختیار کرنا چاہیے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔