کلمہ طیبہ اور کلمہ شہادت کا ثبوت
سوال
ایک شخص خود کو حنفی مذہب بتلاتا ہے مگر یہ شخص کہتا ہے کہ حدیث شریف میں کلمہ شہادت آیا ہے جس کی عبارت یہ ہے۔ اَنْ تَشْهَدَ أَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللَّه وَأَنَّ مُحَمَّداً رسُولُ الله اور یہ کہتا ہے کہ کلمہ طیب قرآن وحدیث میں صرف اتنا آیا ہے۔ لا اله الا اللہ کہتا ہے کہ کلمہ طیب میں محمد رسول اللہ نہیں آیا۔ کہتا ہے اگر آیا ہے تو مجھے بتاؤ کس جگہ آیا ہے اور کس کی روایت سے آیا ہے اور کس حدیث میں آیا ہے اور یہ شخص کلمہ طیب میں لا اله الا اللہ کے ساتھ محمد رسول الله ملاکر پڑھنے والے کو بدعتی بتلاتا ہے۔
جواب
(۱) قریب ہی اس سوال کا جواب یہاں سے جا چکا ہے اب یہ دوبارہ آیا ہے پہلے صرف مسئله دریافت کیا تھا اب دلیل بھی طلب کی ہے۔ قرآن شریف میں کلمہ طیب کے دونوں جزء علیحدہ علیحدہ مذکور ہیں لا اله الا الله سوره والصافات پارہ و مالی میں مذکور ہے اور محمد رسول اللہ سورہ انا فتحنا پارہ حم میں ہے۔ حدیث شریف میں کلمہ طیبہ اور کلمہ شہادت دونوں موجود ہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔