الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

ذکر بالجہر آواز ملا کر کرنا

سوال

بستی کے اندر ایک مسجد ہے اور اس مسجد میں کچھ آدمی مل کر ذکر بالجہر کرتے ہیں۔ ذکر یہ ہے جو پیر صاحب نے بتا رکھا ہے۔ سبحان الله، الحمد لله، لا اله الا الله وغیرہ۔ اور اس وقت کرتے ہیں جب عشاء کی نماز کے بعد نمازی نماز سے فارغ ہو کر چلے جاتے ہیں۔ عشاء کی نماز سے تقریباً ۴۰ یا ۴۵ منٹ کے بعد حلقہ والوں نے بآواز بلند ذکر شروع کر دیا۔ تو اب آپ برائے مہربانی یہ تحریر کر دیجئے کہ اگر کوئی نمازی پھر آ جائے تو اس کی ذمہ داری کس پر ہوگی؟ ایسے مل کر حلقہ کرنا یعنی ذکر بآواز بلند کرنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

في نفسہ ذکر اللہ بہت مبارک ہے۔ قرآن کریم اور حدیث شریف میں اس کی کثرت سے ترغیب آئی ہے۔ جو کلمات سوال میں مذکور ہیں ان کی بڑی فضیلت وارد ہے، ہم ان کو آہستہ اور جہر سے پڑھنا ہر طرح ٹھیک ہے، مگر مناسب یہ ہے کہ ان کو آہستہ پڑھا جائے اور انفرادی طور پر پڑھا جائے حلقہ کی صورت سے آواز ملا کر پڑھنے سے پرہیز کیا جائے۔ بسا اوقات اس میں تان کی صورت پیدا ہو جاتی ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو