ذکر جہری کا ثبوت
سوال
صوبہ بنگال میں کچھ ایسی وبا پھیلی ہوئی ہے جس سے دین کو زیادہ نقصان پہنچ رہا ہے یعنی جس آدمی نے صرف قرآن شریف ایک بار پڑھا ہے اس کو قرآنی اور میانجی کہتے ہیں اور اردو کی ایک دو کتابیں جس نے پڑھی ہوں وہ منشی کہلاتا ہے اور جس نے منیہ یا قدوری پڑھی ہوں اس کو مولوی کہتے ہیں اور جس نے مشکوۃ اور ہدایہ، جلالین شریف پڑھی ہوں اس کو مولانا صاحب کہتے ہیں۔ چونکہ صوبہ بنگال میں جہالت کا غلبہ ہے۔ ان لوگوں کا مزہ ہے۔
جواب
عبارات مذکورہ سے معلوم ہوا کہ ذکر بالجہر بلا اختلاف جائز بلکہ مستحب ہے۔ البتہ کسی عارض کی وجہ سے ممنوع ہو جائے گا۔ مثلاً نمازیوں یا تلاوت کرنے والوں کو اذیت ہو یا ریا کا خوف ہو تو ایسی حالت میں آہستہ ذکر کرنا چاہئے۔سلسلہ قادریہ و چشتیہ کے اکابر اہلِ بزرگ تھے اور ان میں بہت بڑے بڑے اہل اللہ اور اولیاء اللہ ہوئے ہیں اور اب بھی موجود ہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔