ہوٹل کے ایک شریک کا اپنے دوستوں کو مشتر کہ کھانا کھلانا
سوال
ایک ہوٹل میں زید، عمر بکر تینوں آدمی شریک تھے، زید کے ملنے والے آدمی ہوٹل آتے ہیں، اور چائے، کھانا وغیرہ بعض مرتبہ یا اکثر اوقات کھلانا پڑتا ہے، اور زید کے دل میں خیال آتا ہے کہ چونکہ ہوٹل میں کئی آدمی شریک ہیں ایسا نہ ہو کہ عمر و بکر اس بات کا خیال کریں کہ زید کے آدمی چائے وغیرہ پیتے ہیں، لہذا زید نے عمرو بکر سے یہ بات کہدی کہ اگر چہ آپ کو کھلانا پلانا برا نہ لگتا ہو مگر میرے دل میں یہ بات گوارا نہیں، لہذا ہم یہ فیصلہ آپس میں کر لیں کہ تین چار سال کا تخمینہ آمدنی دیکھیں کہ ہوٹل کی آمدنی ماہواری کیا ہے، چنانچہ…
جواب
زید کے ملنے والے آدمی چائے کھانا تینوں کا مشترک کھا پی لیتے ہیں، اور زید ان سے قیمت نہیں لیتا، عمر و بکر بھی زید کے تعلق کی بناء پر اس کو برداشت کر لیتے ہیں، یہ ان کا زید پر احسان ہے، زید اگر اس احسان کے عوض بے ضابطہ ان کو کچھ رقم دیدیا کرے (ایک ہزار یا کم و بیش حسب صوابدید تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔