تجارت، شرکت، معاہدہ
سوال
سائل کا بیان ہے کہ زید، عمر، بکر تین بھائی تھے، ان تینوں کے کاروبار مشترک تھے، ۱۹۵۰ء کے درمیان تنخواہ کی کمی و زیادتی اور دیگر شرائط کے سلسلہ میں ایک معاہدہ ہوا پھر ۱۹۵۲ء میں ایک بھائی یعنی زید کا انتقال ہوا بقیہ دو بھائیوں کے درمیان مختلف امور میں اختلاف تنازع ہوتا رہا، یہاں تک کہ ۱۹۵۸ء میں ان کے والد صاحب نے دونوں بھائیوں کو اور مرحوم زید کے وارثوں کو جمع کر کے ایک حکم نامہ حصص کی تقسیم اور تنخواہ کی کمی و زیادتی کے اور کاروبار کے سلسلہ میں لکھوا دیا جو کہ کئی دفعات پر مشتمل تھا، اس کی دفعہ نمبر ۵ نمبر ۴ رہے کہ…
جواب
(۱) والد صاحب کے انتقال کے بعد جب عمر نے اپنا کاروبار اپنے ذاتی روپیہ سے شروع کیا جس میں مشترکہ روپیہ نہیں لگایا، اور بکر کو نیز زید مرحوم کے ورثہ کو مطلع کر دیا، کہ یہ کاروبار تنہا میرا ہے، اس میں کوئی شریک نہیں، اپنے ذاتی روپیہ سے اس کو شروع کرتا ہوں اور انہوں نے اس کو تسلیم کر لیا تو وہ تنہا کاروبار عمر کا ہے، اس میں کوئی شریک نہیں، ثالث کا یہ کام ہوتا ہے کہ وہ مشترکہ…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔