الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

شرکت کی ایک صورت

سوال

عمر اور بکر دو سگے بھائی ہیں، عمر بڑا اور بکر چھوٹا ہے، کچھ عرصہ پہلے عمر اور بکر میں زبانی یہ طے پایا کہ شرکت میں ایک دوکان کھولی جائے دریں اثناء عمر کی وساطت سے عمر کے برادر طریقت سے ایک دوکان ملی جو کہ مذکورہ برادر طریقت زید نے یہ کہہ کر آٹھ ہزار روپئے پگڑی پر دی کہ یہ صرف عمر کی وجہ سے دے رہا ہوں، دوکان کی رسید وغیرہ بدلوانے میں دو ہزار روپئے خرچ ہوئے، زید نے عمر اور بکر سے صرف دو ہزار روپے نقد لیا، جو کہ بکر نے اپنی جیب خاص سے ادا کیا، زید نے باقی چھ ہزار روپئے بیرون ملک لینا چاہا عمر نے اپنے کسی دوست سے چھ…

جواب

شرکت میں تو دوکان شروع ہی کی گئی ہے، اس میں کیا شبہ ہے جب تک معاملہ شرکت کو ختم نہیں کیا گیا، برابر شرکت باقی رہی اور حسب قرار داد عمر بھی آمدنی کا مستحق رہا، شرکت کا معاملہ کر کے کام شروع کرنے کے بعد (جب آمدنی زیادہ ہو جائے) شرکت سے منحرف ہو جانا اور حسب قرارداد آمدنی سے حصہ نہ دینا بھی سخت گناہ اور غصب ہے، جس کا وبال سخت ہے، پھر بھائی کے ساتھ یہ روش تو اور بھی خطرناک ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو