الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

خیانت کر کے مضارب نے مکان خریدا اب وہ مکان کس کا ہوگا؟

سوال

خالد اپنا روپیہ دے کر بکر سے بطور کمیشن کا روبار چمڑے و چربی کا کراتا ہے، حسب ضرورت کیف ما اتفق برابر روپئے دیئے جاتا ہے، پھر چالان روانگی مال خالد و بکر کا لین دین حساب بھی باہم سمجھ لیا کرتے ہیں، یہ کاروبار تقریباً تین چار سال سے جاری ہے، چار پانچ ماہ ہو رہے ہیں، بکر نے جعلی خریداری کی رسید بنا کر خالد کو دکھلا کر معمول سے زائد رقم لے کر ایک مکان خرید کر والد کے نام رجسٹری کرا دیا، جس کا کرایہ بھی چالیس روپیہ ماہوار مل رہا ہے، جب خالد کو بکر کی اس بات کا علم ہوا، تو خالد نے بکر کے والد کو لکھا جس پر انہوں نے بکر…

جواب

خیانت اور بددیانتی معلوم ہونے کے باوجود خالد نے کاروبار بدستور جاری رکھا اور اس کو فسخ نہیں کیا، اور بکر کے والد کی بات پر اعتماد کر کے مابقی رقم کو ماہ بماہ (بساط کے موافق) لیتے رہنے پر رضا مندی دیدی، اب مکان مذکور کو اپنے نام منتقل کرنے کا حق نہیں رہا ہے ہاں اگر ماہ بماہ ادا کرنے کا وعدہ پورا نہ ہو تو پھر پوری رقم یک لخت وصول کرنے کا حق ہوگا، خواہ نقد کی شکل میں ہو خواہ مکان…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو