الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

شرکت ومضاربت

سوال

زید، عمر، بکر، خالد چاروں نے مل کر ایک کپڑے کی دوکان ڈالی، ان چاروں نے ایک پانچویں شخص محمود کو چلانے کے لئے دی اور یہ محمود اس دوکان میں شریک نہیں، صرف چلانے کے عوض میں اس کو نفع کا نصف حصہ ملے گا، اور باقی نصف شرکاء میں تقسیم ہو جائے گا، اب اس کے بعد محمود کو نفع کا نصف حصہ کم پڑتا ہے، اس لئے اس نے شرکاء سے کہا کہ ہر مہینہ تنخواہ مقرر کر دو نصف حصہ پر، تو شرکاء نے جواب دیا کہ یہ صورت جائز نہیں ہے، اس لئے محمود نے کہا ہر مہینہ مجھے بعنوان ہدیہ سو روپے دیا کرو تو اب دریافت طلب مسئلہ یہ ہے کہ محمود کا یہ تاویل کر…

جواب

(۱) مضاربت کے لئے ضروری ہے کہ نقد مضارب کے حوالہ کیا جائے، خود مال خریدے، پس اگر ان چاروں شرکاء نے کپڑا خرید کر دوکان قائم کر لی اور پھر وہ دوکان محمود کو چلانے کے لئے دی تو یہ مضاربت صحیح نہیں ہوئی محمود اس کے نفع میں شریک نہیں، بلکہ اجر مثل کا مستحق ہے، اگر نقد روپیہ محمد کو دیا اور کپڑے کی دوکان کے لئے اس سے کہدیا اور محمود نے کپڑا خرید کر کام شروع کیا تو مضاربت صحیح ہے…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو