گواہ سے قسم لینا
سوال
ایک مسئلہ میں بہت تذبذب پیدا ہو گیا ہے، کتب فقہ کی عبارات سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ گواہوں سے قسم نہیں لی جاسکتی جیسا کہ ”فلو امر قضاءه بتحليف الشهود وجب على العلماء ان ينصحوه الخ رد المحتار ج ۴/ ص ۳۵۸/كتاب القضاء، وكذا لوعلم الشاهد ان القاضي يحلفه ويعمل بالمنسوخ له امتنع عن اداء الشهادة لانه لا يلزمه، رد المحتار ج ۴، ص ۴۴۲/ كتاب الدعوى)
جواب
اگر شاہد کو یہ چیز مستحضر کرادی جائے کہ شہادت قسم کو متضمن ہے تو شاید کچھ موثر ہو اور آپ کے لئے مفید ہو۔ جواب صحیح ہے۔ اور جھوٹی شہادت و بیان پر جو وعیدیں قرآن وحدیث میں وارد ہیں، ان کو موثر انداز میں بتلایا اور مستحضر کرا دیا جائے، جب بھی بہت موثر ہوگا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔