الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

اداء شہادت جبکہ صحیح فیصلہ کی توقع نہ ہو

سوال

پنجاب میں وراثت کی تقسیم کی نسبت اسلامی قانون کے بجائے برادر یہ رواج کے مطابق تقسیم ہوتی ہے، لڑکیوں کو حصہ نہیں دیا جاتا بیوگان کو بجائے شرعی قانون کے ان کا حق دینے سے محض گزارہ دینا چاہتے ہیں، اگر وہ عدالت میں دعویٰ کرتی ہے، تو تمام جائیداد پر وہ قابض ہو جاتی ہے، اور دوسرے وارث محروم ہو جاتے ہیں، اگر وراثت کے متعلق کوئی مقدمہ موجودہ عدالت میں پیش ہو اور یہ بھی یقین ہو کہ عدالت میں شریعت مقدسہ کے خلاف فیصلہ صادر ہو گا تو ایسی حالت میں اگر کوئی شخص عدالت میں شہادت نہ دے تو وہ گنہگار ہوگا، یا نہیں؟

جواب

جب اس بات کا یقین ہے کہ عدالت فیصلہ شریعت کے مطابق نہیں کرے گی، بلکہ خلاف کرے گی اور سچی شہادت پر ثمرہ مرتب نہیں ہوگا، تو ایسی حالت میں شاہد کے ذمہ شہادت واجب نہیں اور جب ظن غالب ہو کہ عدالت شہادت کو قبول کر کے موافق شرع فیصلہ کرے گی، اور بغیر شہادت ادا کئے مسلم کا حق ضائع ہو جائے گا، تو ایسی حالت میں مسلم کے ذمہ اداء شہادت (بغیر مشقت کبری) واجب ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو