فاسق کی شہادت کے سلسلہ میں دو فتوؤں میں رفع تضاد
سوال
میں نے ایک فتویٰ بھیجا تھا، سوال یہ تھا کہ ایک شخص نمازی ہے، روزہ بھی رکھتا ہے، دین کے تمام کام کرتا ہے، لیکن داڑھی منڈواتا ہے، ایسا آدمی شریعت کے اندر معتبر ہے یا نہیں؟ یعنی رمضان کے چاند کی یا عید کے چاند کی ایسے آدمی کی گواہی معتبر ہے یا نہیں؟ شریعت میں معتبرہ آدمی کس کو مراد لیتے ہیں، اس کا جواب مفتی احمد علی صاحب نے ۲۷/۹/۹۵ھ کو نمبر ۱۲۶/ پر یہ دیا ہے، کہ وہ ذی اقتدار اور لوگوں میں قابل اعتبار ہے، تو اس کی شہادت مان لی جائے گی۔
جواب
چاند کی شہادت قبول نہیں نکاح کی گواہی بھی رد کی جاسکتی ہے۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ ذی اقتدار انسان کو تمام گناہ جائز ہیں یا نہیں؟ گواہ اگر عادل ہو تو اس کی گواہی کا قبول کرنا اور اس کے موافق حکم کرنا واجب ہے، اگر عادل نہ ہو، بلکہ کبیرہ گناہ کے ارتکاب سے فاسق ہو تو اس کی گواہی قبول کرنا واجب نہیں، لیکن اگر حاکم کو قرائن سے معلوم ہو کہ فلاں شخص با وجود فاسق ہونے کے یہ بات صحیح کہتا…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔