جھوٹی گواہی پر اعتماد
سوال
ایک قاضی جو سرکاری مدرس بھی ہیں، چند آدمیوں کی موجودگی میں چند مشہور ذمہ دار حضرات پر اپنا تبادلہ کرانے کا جھوٹا اور بے بنیاد الزام لگا کر قوم میں نفاق پیدا کرتا ہے، لیکن بوقت صفائی ان ہی آدمیوں کی موجودگی میں جن سے اس نے یہ بات کہی تھی، حلف کی رو سے انکار کر دیتا ہے، اور دوسری طرف وہ چار پانچ مسلمان بھی حلف اٹھا کر بیان کرتے ہیں، کہ قاضی نے الگ الگ اوقات میں اور الگ الگ نشستوں میں بات ایسے کہی ہے ایسی صورت میں شرعی نقطہ نظر سے کس کی بات بھروسہ کے قابل ہے۔؟
جواب
کسی غلط خبر یا غلط گمان کی وجہ سے بلا تحقیق الزام لگا نا فتنہ کا باعث ہوتا ہے، اس لئے اس کی صفائی اور تحقیق لازم ہے، جس کا متعلق غلط بات کہی ہو اس کی صفائی کر لی جائے، فلاں وجہ سے اس کی نوبت آئی ہے، اب معلوم ہوا کہ وہ بات غلط تھی اس لئے معذرت خواہ ہوں، جھوٹ بولنا اور جھوٹا حلف اٹھانا اتنا سخت گناہ ہے کہ اس کو شرک کے قریب ذکر کیا گیا ہے، اس سے پورا پرہیز لازم ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔