کیا قربانی کے ہر شریک پر تکبیر واجب ہے
سوال
- الجوہرۃ النیرہ اور مالا بد منہ میں قاضی ثناء اللہ پانی پتی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں کہ قربانی کے وقت جو معاونین اس میں شریک ہوتے ہیں، سب پر بیک وقت تکبیر کہنا واجب ہے، اگر کوئی ایک بھی ترک کر دے گا، جانور کے پکڑنے میں تو قربانی حرام ہو جائے گی، کیا یہ قول مفتی بہ ہے، اور ایسا کر لیا گیا تو کیا حکم ہے؟
جواب
مسئلہ یہ ہے کہ ذابح پر بسم اللہ پڑھنا واجب ہے، اسی طرح معین ذابح پر بھی واجب ہے، اور معین ذابح حقیقتہً وہ ہے جو چھری چلانے میں مدد دے، مثلاً ایک شخص کمزور ہے اس میں چھری چلانے کی پوری قوت نہیں، تو دوسرا آدمی اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر قوت سے چھری چلا دے تو اس پر بھی بسم اللہ پڑھنا لازم ہے، اور جو آدمی جانور کے پیر وغیرہ پکڑے وہ حقیقی معین ذابح نہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔