الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

شاہ مسروقہ کو بسم اللہ پڑھ کر ذبح کرنا

سوال

- ایک شخص نے ایک بھیڑ چوری کی اور گھر لایا جس شخص نے چوری کی اس نے اس بھیڑ کو ذبح کیا اور ذبح کرتے وقت شخص مذکورہ نے بسم اللہ اللہ اکبر پڑھا، اس پڑھنے سے شخص مذکورہ کافر ہو جائے گا یا گنہگار؟ اگر اس نے تکبیر نہیں پڑھی تو مذبوحہ حلال ہے یا مردار ہے؟

جواب

چوری کی بھیڑ کو ذبح کرتے وقت بسم اللہ اللہ اکبر پڑھنے سے وہ شخص کافر نہیں ہوا، لیکن ادائے ضمان سے پہلے یا اذن مالک سے پہلے اس کا کھانا ملک غیر ہونے کی وجہ سے جائز نہیں، چوری حرام ہے اس کی وجہ سے سارق مرتکب کبیرہ ہوا، فعل معصیت پر بسم اللہ پڑھنا جرم ہے، کفر نہیں، حرام قطعی بعینہ کو حلال اعتقاد کرنا کفر ہے: ”وتارة يكون الاتيان بها حراماً كما عند الزنا والحائض وشرب الخمر واكل…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو