وقت ذبح اللہ کا کونسا نام لیا جائے
سوال
- ذبح کے وقت بجائے بسم اللہ اللہ اکبر کے بسم اللہ الرحمن الرحیم کہنا کیسا ہے؟ اور لفظ رحمن و رحیم سے جانور حرام یا مکروہ تو نہیں ہوتا، شرعی حکم سے آگاہ فرماویں ” وَلَا تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللهِ عَلَيْهِ الآية كتاب الصيد والذبائح میں جہاں کہیں بھی ” اسم الله عَلَيْهِ “ کے الفاظ آئے ہیں، تو وہاں اسم اللہ سے مراد آیا اسم ذات باری تعالیٰ میں اللہ مراد ہے، یا اسم اللہ کی اضافت کے مد نظر خدا کے ۹۹ ر ناموں میں سے کسی ایک نام کا ذکر بوقت صید و ذبح واكل و شرب مشروع و مباح ہو سکتا ہے، ترکیباً لفظ اللہ مضاف…
جواب
اللہ پاک کے جس نام سے ذبح کر دے گا ذبیحہ درست ہوگا، ”والشرط في التسمية هو الذكر الخالص عن شوب الدعاء و غيره فلايحل بقوله اللهم اغفر لي لانه دعاء وسؤال بخلاف الحمد لله اوسبحان الله مريداً به التسمية فانه يحل اھ درمختار (قوله والشرط في التسمية هو الذكر الخالص)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔