الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

بندوق کی گولی سے شکار

سوال

اگر کوئی شخص شکار کھیلنے گیا اور تکبیر کہہ کر شکار پر بندوق چلائی اور اس کی گولی سے شکار مر گیا شکاری کے شکار تک پہنچنے کے قبل، تو اس کا کیا حکم ہے، شکار کا گوشت کھایا جائے گا یا نہیں؟

جواب

اس کا کھانا درست نہیں: ”او بندقة ثقيلة ذات حدة لقتلها بالثقل لا بالحد اھ قال الشامي: ولا يخفى ان الجرح بالرصاص انما هو بالاحراق والثقل وبواسطة اندفاعه العنيف اذ ليس له حد فلا يحل، و به افتی ابن نجیم“ در مختار ص ۴۱۷ / ج ۵۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو