الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

بندوق سے شکار کیا ہوا مرغا

سوال

- ایک شخص نے مرغ کا شکار کیا اور شکار کیا بندوق سے اور بغیر تکبیر کے مرغ پر بندوق چلائی اور مرغ ایک فائر سے مرگیا بندوق سے گولی لگنے کے بعد کچھ دیر کے لئے مرغا گم ہو گیا تلاش کرنے کے بعد مرغا مرا ہوا ملا اس مرے ہوئے مرغے کو ذبح کیا اور کچھ لوگوں نے کھایا ذبح کے وقت مرغ میں سے قدرے کچھ گرم گرم خون بھی نکلا ہے، بغیر تکبیر کے بندوق چلانا اور مرغ کا مرا ہوا ملنا پھر ذبح کرنا کیا یہ مرغا حرام ہے؟

جواب

بندوق میں جو گولی ہوتی ہے، یا چھرے ہوتے ہیں وہ چاقو یا تیر کی طرح دھار دار نہیں ہوتا وہ تیر کے حکم میں نہیں، اگر بسم اللہ پڑھ کر بندوق چلائی اور اس سے جانور مر جائے ذبح کی نوبت نہ آئے تو وہ جانور حلال نہیں اگر اس کو زندہ پالیا اور شرعی طریقہ پر ذبح کر لیا، تو وہ حلال ہو گا، اگر وہ مر چکا تھا پھر ملا تو ذبح کرنے سے حلال نہیں ہوگا، اس صورت میں اس کے غائب ہونے یا نہ ہونے سے کوئی…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو