کیا شکار کرنا مباح ہے
سوال
- الصيد مباح الاللتلهی شامی جلد خامس میں تلہی سے کیا مراد ہے، اگر کوئی شخص گاہے گاہے تفریحاً شکار کھیلتا ہے، اور ترک واجبات نہیں کرتا تو بالکل جائز ہے یا مکروہ؟ اگر مکروہ ہے تو تنزیہی یا تحریمی؟
جواب
تلہی سے یہ مراد ہے کہ وہ محض لہو و لعب کے لئے شکار کھیلتا ہے، جس سے وقت ضائع ہوتا ہے، حیوانات کو اذیت پہنچتی ہے نہ یہ ان جانوروں کا گوشت کھاتا ہے، نہ ہڈی، سینگ وغیرہ کام میں لاتا ہے، نہ کھیت وغیرہ کی حفاظت کے لئے ان کو مارتا ہے، بلکہ محض تفریح کے لئے ان کو مارتا ہے، ایسا شکار کھیلنا حرام ہے، نیز وہ شکار کھیلنا بھی حرام ہے جس سے فرائض، واجبات ترک ہوتے ہوں، اگر فرائض واجبات ترک…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔