تفریح کے لئے شکار کھیلنا
سوال
ایک شخص ایک بندوق کا لائسنس صرف اس مقصد کے لئے بنوانا چاہتا ہے کہ حلال و حرام جانور کا شکار کھیلے اور تفریح طبع حاصل کرے، شکار کی عادت بغرض تفریح مثل اور مشاغل کے ہوتی ہے، جن کی تعریف لہو و لعب سے کی جاتی ہے، اس لئے کارتوس وغیرہ کا صرفہ بعض اوقات عادۃً بڑھتا ہی رہتا ہے، آیا بندوق اس غرض سے حاصل کرنا کہ اس کو مشغلہ تفریح بنایا جائے، اور ہر قسم کے جانوروں کا شکار تفریح طبع اور احباب کی دلچسپی اور ذاتی مشغلہ کے طور پر کیا جائے، از روئے شرع شریف جائز ہوگا یا نہیں؟
جواب
شکار کرنا خواہ حلال جانور کا ہو خواہ حرام جانور کا شرعاً مباح اور درست ہے، جبکہ اس سے شکاری کی کوئی مشروع غرض حاصل ہوتی ہو مثلاً حلال جانور کا گوشت حاصل کرنا مقصود ہو یا کسی جانور کے پر یا بال، یا کھال، یا سینگ یا ہڈی وغیرہ کوئی چیز مطلوب ہو یا مثلاً دفع اذیت ہی مقصود ہو، جیسے بعض اوقات بعض آدمی بندر یا بھیڑیئے کا شکار کرتے ہیں اگر محض لہو ولعب اور اضاعت وقت مقصود ہو تو ناجائز…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔