یوم الشک میں روزہ
سوال
۲۹ شعبان کو مطلع صاف تھا بالکل اور چاند نظر نہیں آیا، ۳۰ / شعبان کو زید نے اس نیت سے روزہ رکھا کہ اگر شہادت کی بنا پر روزہ ہو گیا تو فرض اور نہ نفل بکر نے ۳۰/ شعبان کو بلا تردد نفل روزہ رکھا کچھ روز بعد شرعی شہادت سے ثابت ہوا کہ ۳۰ /شعبان کو یکم رمضان ہے، سوال یہ ہے کہ زید بکر کے لئے کیا حکم ہے؟
جواب
رمضان شریف کا روزہ دونوں سے ادا ہو گیا، بکر کا بلا کراہت اور زید کے روزہ میں اس تردد کی وجہ سے کچھ کراہت آگئی تاہم قضاء کسی کے ذمہ نہیں: وان ظهر انه من رمضان اجزأ عنه اى عن رمضان ماصامه باى نية كانت الى قوله واما كراهية النفل مع التردد فلانه ناو للفرض من وجه وهو ان يقول ان كان غدا من رمضان فعنه والا فتطوع الخ. (مراقی الفلاح ص: ۳۷۷)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔