الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

صوم يوم الشك

سوال

امسال رمضان میں جن لوگوں نے رمضان شریف کا روزہ رکھا تھا یعنی ان کے زعم میں ۳۰ر شعبان کو یکم رمضان ہو چکی تھی، لہذا اس حساب سے ان کے ۳۰ / یوم کے روزے پورے ہو گئے، یا کہ نہیں اگر نہیں تو کیا ان کو بھی ایک روز مثل ان لوگوں کے جنہوں نے اس روز روزہ نہیں رکھا تھا، بعد میں بموجب فتویٰ دہلی رکھنا پڑے گا، یانہیں؟

جواب

بلا چاند دیکھے محض شک کی بنیاد پر تیس شعبان کو یکم رمضان سمجھ کر روزہ رکھنا مکروہ ہے، تاہم جن لوگوں نے ایسا کیا انکے روزے مکروہ ہو گئے اب ان کے ذمہ ایک روزہ کی قضاء لازم نہیں: وكره فيه ای فی یوم الشک کل صوم الاصوم نفل جزم به بلا ترديد بينه وبين صوم اخر فانه لا يكره وان ظهر انه من رمضان اجزأ عنه اى عن رمضان ماصامه باى نية كانت الخ مراقى الفلاح مختصراً ص: ۳۷۷.

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو