یوم عرفہ ونحر میں شک
سوال
اوائل ذی الحجہ میں مختلف جگہوں سے ۲۹؎ کے چاند کی خبر معلوم ہوئی لیکن شرعی ثبوت نہ ہوا، پس اس صورت میں ۹ رذی الحجہ جس کے متعلق یوم عرفہ و یوم نحر ہونے کا شک ہے نفلی روزہ رکھنا کیسا ہے، زید کہتا ہے کہ جائز وافضل ہے: لما في الفيض وغیرہ لو وقع الشك فى ان اليوم عرفة او يوم النحر فالافضل فيه الصوم (شامی ص ۸۷، ج ۲)
جواب
زید کا قول قوی معلوم ہوتا ہے فقہاء نے ہلال رمضان کے مسئلہ میں اختلاف مطالع کو معتبر نہیں مانا ذی الحجہ کے متعلق جو احکام ہیں، جیسے حج، صوم، عرفہ، اضحیہ، ان میں معتبر ہے، جب ثبوت رویت کے باوجود ان مسائل میں صحت کا حکم ہے، تو محض شک کی صورت میں نفل روزہ اور اضحیہ کی ممانعت نہ کی جائے گی۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔