الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

گناہ کے ترک کا عہد پھر اس کے خلاف کرنے پر روزہ کی نیت کرنا

سوال

زید سے ایک گناہ کبیرہ صادر ہو رہا ہے، وہ بہت کوشش کرتا ہے کہ اس گناہ سے نجات مل جائے، توبہ بھی کرتا ہے اور پختہ ارادہ بھی کرتا ہے کہ اب نہیں کرے گا، مگر وہ گناہ پھر بھی اس سے صادر ہو جاتا ہے، لہذا اس نے ایک تدبیر سوچی کہ جب اس سے یہ گناہ صادر ہوگا تو وہ ایک ہفتہ کا روزہ رکھے گا تا کہ نفس امارہ روزہ کی وجہ سے مرجائے، مگر پھر بھی اس سے گناہ صادر ہوا، لہذا اس نے ایک ہفتہ کا روزہ رکھ لیا، مگر جب بہت مرتبہ صادر ہوتا رہا تو کیا پے در پے اسپر لازم ہے کہ روزہ رکھے یا فصل کر کے رکھے اور کس وقت رکھے اور کتنے روز رکھے؟

جواب

اگر اس نے صرف دل میں سوچا ہے اور اپنے اوپر بطور نذ رویمین کے لازم نہیں کیا ہے تو اس کے ذمہ ایسے روزوں کا رکھنا لازم نہیں ہے، البتہ گناہوں کا چھوڑ نا اور توبہ کرنا اور توبہ پر پختہ رہنے کیلئے اللہ تعالیٰ سے مدد مانگنا ضروری ہے، اور توبہ کرتے وقت پختہ عہد چاہئے کہ آئندہ نہیں کرے گا، پھر اگر صدور ہو جائے تو پھر توبہ کرے مایوس کبھی نہ ہوں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو