الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مظاہر علوم سہارن پور

سوال

اگر فدیہ کی اجازت ہو تو کیا یہ ضروری ہے کہ ہر روزہ کا فدیہ روزانہ ہی ادا کیا جائے یا پورے ماہ کے روزوں کا فدیہ یکمشت ختم رمضان پر یا پیشگی ہی ادا کیا جاسکتا ہے، اور اگر ایسا ممکن ہو تو ختم رمضان پر پورے ماہ کے فدیہ کے لئے کس قدر غلہ دینا ضروری ہے، آیا بازاری بھاؤ کے اعتبار سے اس کی قیمت ادا کی جاسکتی ہے یا نہیں اگر قیمت ادا کی جاسکتی ہے تو آیا اس کا غرباء کو ہی تقسیم کرنا ضروری ہے، یا کسی غریب عزیز کو بھی دیا جا سکتا ہے، یا کسی مدرسہ کو بھی دیا جا سکتا ہے یا نہیں؟

جواب

جس صورت میں فدیہ کا حکم ہے تو فدیہ یکمشت قبل رمضان اور بعد رمضان اور روزانہ جس طرح دل چاہے ادا کیا جا سکتا ہے، کوئی خاص پابندی نہیں، ایک روزہ کا فدیہ ایک صدقہ فطر کے برابر غلہ یا اس کی قیمت ہے جو بازار کا عام بھاؤ ہو اس سے قیمت لگالی جائے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو