الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

صوم وصلوٰۃ کا فدیہ اس کی مقدار اس کا مستحق

سوال

ایک شخص کا انتقال ہوا جس کی چند نمازیں ایسی حالت میں قضاء ہوئیں کہ اس کو ہوش تھا مگر طاقت اتنی نہ تھی کہ اشارہ ہی سے نماز پڑھتا ایسی صورت میں ان نمازوں کا فدیہ ادا کرنا ضروری ہے، یا نہیں اگر ضروری ہو تو کس طرح ادا کرے اور فی نماز کس مقدار میں؟ (۲) مندرجہ بالا شخص کے رمضان کے کچھ روزے بھی قضاء ہو گئے ہیں جس کے بعد بیماری نے اس کو اتنی مہلت نہ دی کہ قضاء ادا کر سکے ان کا فدیہ کس طرح اور فی روزہ کس مقدار سے ادا کرے۔ (۳)

جواب

اگر ایسی حالت میں نمازیں قضاء ہوئی ہیں کہ مریض میں سر سے اشارہ کرنے کی بھی طاقت نہیں تھی، اور مرض سے صحت نہیں پائی بلکہ اسی حالت میں انتقال ہوگیا تو اس پر ان نمازوں کی قضاء فرض نہیں نہ اس کی طرف سے ان نمازوں کا فدیہ دینا ضروری ہے: وان تعذر الايماء براسه وكثرت الفوائت بان زادت على يوم وليلة سقط القضاء عنه وان كان يفهم فى ظاهر الرواية وعليه الفتوى در مختار قال الشامي فلومات ولم…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو