کفارہ صوم میں بیماری کی وجہ سے اگر تسلسل نہ ہو سکے
سوال
رمضان المبارک کے روزے رکھ کر عمدا توڑنے پر کفارہ لازم آتا ہے، اس کفارہ میں ایک تخفیف تو معلوم ہو چکی ہے، کہ ایک رمضان المبارک کے متعدد روزے رکھ کر توڑے ہوں یا متعدد رمضانوں کے رکھ کر توڑے ہوں تو کفارہ میں تداخل ہو کر ایک کفارہ کافی ہوگا، بشرطیکہ سب روزوں کے توڑنے کے بعد کفارہ ادا کر دیا جائے، یہ معلوم کرنا ہے کہ کوئی دوسری تخفیف بھی اس باب میں ہے، مثلاً تتابع صیام اگر کسی عذر کی وجہ سے باقی نہ رہ سکیں، مثلاً تیس روزے رکھنے کے بعد بیماری کی وجہ سے ایک دوروزے چھوٹ گئے پھر تیس روزے رکھ کر ساٹھ پورے کر دے تو کفارہ ادا…
جواب
کفارہ صوم میں بہ نسبت کفارہ ظہار کے ایک تخفیف اور بھی ہے، وہ یہ ہے کہ صیام شهرین متتابعین کے لئے کفارہ ظہار میں قبل المس کی قید بھی ہے، کفارہ صوم میں یہ قید نہیں ہے تتابع بہر حال ضروری ہے، صرف ایام حیض کو مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے، ایام نفاس کو مستثنیٰ نہیں کیا گیا مرد کے لئے کوئی عذر معتبر نہیں جس طرح بھی تتابع میں فرق آجائے گا، استیناف لازم ہوگا: ككفارة المظاهر اى مثلها فى…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔