الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

ریڈیو کے اعلان کی حیثیت

سوال

بعض شہروں میں مثلاً بمبئی، دہلی وغیرہ میں رویت ہلال کمیٹی قائم ہے، انکے فیصلوں کی پیروی کتنے میل کے فاصلہ تک جائز ہے اور کن پر نہیں، جب کہ ان کے اعلانات اور فیصلے محض ریڈیو کے ذریعہ پہنچتے ہوں اور محض خبر پر اعتماد کر لینا کیا حکم ہے جب کہ یہ کہا جاتا ہے کہ فلاں صاحب کے مرنے یا منتخب ہونے یا حادثہ کی خبر کیوں مانتے ہو؟ عینی گواہ شرعاً کیسا ہو اور کن خوبیوں کا حامل ہو؟

جواب

اگر رویت ہلال کمیٹی اہل علم اور دیانت حضرات پر مشتمل ہواور با قاعدہ ثبوت رویت فراہم ہونے پر وہ ریڈیو سے اعلان کرے تو وہ اعلان رویت ہے، شہادت نہیں جس طرح توپ اور نقاره کے ذریعہ اعلان معتبر ہے اسی طرح یہ اعلان بھی معتبر ہے اور جہاں تک اس اعلان کو تسلیم کرنے سے مہینہ ۲۸ کا نہ رہ جائے اور ۳۱ کا نہ ہو جائے وہاں تک یہ اعلان معتبر ہوگا، بشرطیکہ ۲۹ کی رویت کے متعلق ہو اور مطلع صاف نہ…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو