الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

نماز فجر دن کی نماز ہے یا رات کی

سوال

زید کہتا ہے کہ فجر دن کی نماز ہے، اور عمر کہتا ہے کہ رات کی نماز ہے اور زید اپنی تائید میں جناب مولانا عبدالحئی صاحب لکھنوی رحمہ اللہ اور مولانا عاشق الہی صاحب رحمہ اللہ میرٹھی اور حضرت تھانوی رحمہ اللہ کے قول اور حضرت شاہ عبد القادر صاحب رحمہ اللہ بطور استدلال پیش کرتا ہے اور عمر نہار عرفی کو استدلال میں پیش کرتا ہے تو شرعا فجر کی نماز دن کی نماز ہے یا رات کی؟

جواب

ایک حدیث شریف میں ہے کہ صَلاةُ النَّهَارِ عَجْمَاءُ، یعنی دن کی نماز میں قرآت زور سے نہیں کی جاتی، اس حدیث کے اعتبار سے فجر کی نماز کو دن کی نمازوں میں شمار نہ کرنا بھی درست ہے، اس لئے کہ اسمیں قرأت زور سے کی جاتی ہے اس لئے یہ رات کی نماز ہے نیز لغة عرفا دن سورج نکلنے سے شروع ہوتا ہے اس لئے بھی فجر کی نماز دن کی نمازوں میں داخل نہیں کیونکہ طلوع شمس سے پہلے پڑھی جاتی ہے اصطلاح…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو