الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

وقت استواء

سوال

زوال کا وقت کب سے کب تک رہتا ہے شروع اور آخر کی مقدار گھڑی رائج کے وقت سے کیا ہے؟ یعنی موسم گرما میں کب سے کب تک وقت زوال کا انتظار کر کے کوئی نفل مثلاً تحية المسجد وغیرہ شروع کی جائے اور موسم سرما میں موسم گرما سے کس قدر اور کتنا فرق رکھا جائے سورج کے قائم ہونے سے زوال تک صحیح وقت اور احتیاط کا درجہ دونوں کی مقدار کی وقت ابتداء اور انتہاء سے الگ الگ مطلع فرمائیں۔

جواب

نصف النہار یعنی استواء شمس کے وقت نماز مکروہ تحریمی ہے اور اس وقت کی مقدار اس قدر نہیں ہوتی کہ اس میں نماز ادا کی جا سکے بلکہ بہت قلیل ہوتی ہے گھڑی رائج الوقت کے اعتبار سے ایک منٹ بھی نہیں ہوتی اور وقت موسم اور بلاد کے اختلاف سے مختلف ہوتار ہتا ہے ہمارے اطراف میں ایک زمانہ میں ۱۲ بجکر آٹھ منٹ پر ہوتا ہے اور ایک زمانہ میں ۱۲ بجکر اڑتیس منٹ پر ہوتا ہے، بس اس کے درمیان درمیان…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو