رمضان میں نماز فجر اول وقت میں
سوال
(۱) کیا صرف رمضان المبارک میں بعد اذان فوری جماعت بہتر ہے یا بعد اذان گیارہ ماہ کی طرح وقت حنفی پر جماعت کے درمیان وقت کے انتظار میں حسب حال عادت ذکر اللہ کرنا بہتر ہے جب کہ بارہ ماہ ظہر عشاء فجر کی اذان اور جماعت میں نصف گھنٹہ اور ایک گھنٹہ تک درمیانی وقت ہوتا ہے۔ (۲) کیا حضور مقبول صلى الله عليه وسلم کا مستقل تمام ماہ رمضان المبارک میں یہی معمول رہا کہ اذان کے فوری بعد نماز با جماعت ادا کی ہو، یا کیا حضرت امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے ماہ رمضان المبارک میں اس بات کی اجازت دی ہے کہ ایسا کر لیا جائے؟ (۳)
جواب
حدیث پاک میں فجر کو اندھیرے میں پڑھنے کے بجائے روشنی پھیل جانے پر پڑھنے کا حکم ہے، اسْفِرُوا بِالْفَجْرِ فَإِنَّهُ أَعْظَمُ لِلآجُرِ (الحدیث) فقہائے احناف نے بھی ایسا ہی لکھا ہے گو صبح صادق ہوتے ہی پڑھ لینے سے بھی نماز بلا کراہت ادا ہو جائے گی مگر عامہ نمازی اس وقت پر حاضر نہیں ہو پاتے، جماعت کی شرکت سے محروم ہو جاتے ہیں، ویسے ہی اذان و جماعت میں اتنے فصل کا حکم ہے کہ نماز کی…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔