نماز فجر اتنی تاخیر سے پڑھنا کہ طلوع بالکل قریب ہو جائے
سوال
ایک مسجد کا امام جو مسجد ہی کے حجرہ میں رہتے ہوئے فجر کی نماز اس قدر تاخیر سے پڑھتے ہیں کہ سلام پھیرنے کے بعد ہی ایک یا دو منٹ کے بعد طلوع شروع ہو جاتا ہے اکثر ایسا کرتے ہیں امام کا یہ فعل کیسا ہے؟
جواب
امام کا یہ طریقہ خلاف سنت ہے۔ اس کی اصلاح کی جائے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔