رمضان میں فجر کی نماز ابتدائے وقت میں ادا کرنا
سوال
رمضان المبارک میں کثرت سے یہ معمول ہو گیا ہے کہ وقت سحر ختم ہوتے ہی فوراً اذان کہی جاتی ہے اور دو سنتیں پڑھ کر فورا نماز فجر ادا کر لی جاتی ہے۔ مغرب کے علاوہ دیگر نمازوں میں نماز اور اذان میں کس قدر وقفہ ہونا چاہیے؟ اسفروا بالفجر والی حدیث سے رمضان مستثنیٰ ہے؟ معمول مذکور غلط ہے یا صحیح؟ غلس میں نماز پڑھنا بہتر ہے یا اسفار میں؟
جواب
حنفیہ کا أصل مسلک تو یہی ہے اَسْفِرُوا بِالْفَجر لیکن اس کی وجہ تکثیر جماعت ہے۔ رمضان المبارک میں اگر غلس میں جماعت میں حاضرین حاضر ہوں اور اسفار میں تقلیل ہو جائے، لوگ سو جائیں جماعت یا نماز فوت ہو جائے تو پھر غلس کو اختیار کیا جائیگا جیسا کہ فیض الباری میں بحوالہ مبسوط نقل کیا ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔