الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

وقت فجر میں تین طرح کا عمل

سوال

جب کہ مسجد کی گھڑی کا وقت ریڈیو وقت کے مطابق ہو اور نقشہ طلوع وغروب میں طلوع آفتاب کا وقت سات بجکر ۲۰ /منٹ دکھایا گیا ہو۔ (ألف) وضو کر کے سات بجکر دس منٹ پر مسجد میں داخل ہوتا ہے اور طلوع آفتاب کا انتظار کرتا ہے اور تیس منٹ گزارنے کے بعد سات بجکر چالیس منٹ پر نماز فجر قضا پڑھتا ہے۔ (ب) وضو کر کے سات بجکر ۱۵/ پندرہ منٹ پر مسجد میں آتا ہے اور فوراً دو رکعت نماز فجر ادا کر لیتا ہے جو سات بجکر ۱۸ /منٹ میں فارغ ہو سکتا ہے۔ دو سنت ۷ بجکر ۳۵ / منٹ پر قضا پڑھتا ہے۔ (ب)

جواب

جب کہ طلوع شمس سے دس منٹ قبل ألف کو نماز کا وقت ملا پھر بھی اسنے نماز فجر ادا نہیں کی بلکہ بیٹھ گیا یہاں تک کہ سورج نکل آیا اور اسنے قضا نماز پڑھی تو الف گنہ گار ہوا، کناره آفتاب ظاہر ہونے سے پہلے تک نماز فجر کا وقت رہتا ہے اس کا یہ کہنا کہ نماز اور سجدہ اس وقت ہی حرام ہے غلط ہے البتہ کنارہ آفتاب ظاہر ہونے پر نماز فجر کا وقت ختم ہو گیا اس وقت سجدہ کرنا بھی منع ہے البتہ اس کی…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو