الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

اذان اور اقامت کے درمیان وقفہ کتنا ہو؟

سوال

زید کا اعتراض ہے کہ جب یہ مسئلہ ہے کہ مؤذن اذان اور اقامت کے در میان موافق چار رکعت کے بیٹھے اور مغرب میں تھوڑی دیر تو اکثر مسجدوں میں مؤذن اذان اور اقامت کے درمیان آدھ گھنٹہ کا وقفہ دیتے ہیں، اسکی کیا وجہ ہے، کیا یہ درست ہے؟ اس آدھ گھنٹہ کی پابندی سخت کرتے ہیں، اور کراتے ہیں، اس کو مفصل تحریر فرماویں، اور کتب حدیث کا بھی حوالہ دیں؟

جواب

احادیث میں آدھے گھنٹہ کی تحدید نہیں بلکہ یہ حکم ہے کہ اذان اور اقامت کے درمیان اتنا فصل ہونا چاہئے کہ جو شخص کھانا کھا رہا ہو وہ کھانا وغیرہ سے فارغ ہو جائے، اور جس کو ضرورت ہو وہ قضاء حاجت وغیرہ سے فارغ ہو جائے، اب اہل مسجد کے اتفاق رائے پر موقوف ہے، بعض جگہ آدھ گھنٹہ وقفہ مقرر کر لیتے ہیں، اور بعض جگہ کم اور کسی نماز کے لئے آدھ گھنٹہ سے بھی زائد، جیسے صبح کی نماز میں اور یہ…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو