تارک نماز کا حکم
سوال
جو بلا عذر شرعی نماز کو ترک کرے شرعاً اس کا کیا حکم ہے، اور اس کے ساتھ اختلاط اور ساتھ کھانا پینا اور بولنا کیسا ہے، اور اگر زوجین میں ایک ایسا ہو تو نکاح باقی رہے گا یا نہیں؟ اور صحبت حرام ہوگی یا حلال اور اولاد کیسی ہوگی؟ اور اگر بعد مرنے کے اس شخص کے زجراً اس کے جنازہ کی نماز نہ پڑھیں تو کیسا ہے؟
جواب
نماز فرض عین ہے ہر مکلف کو اس کا ادا کرنا ضروری ہے، جو شخص اس کی فرضیت کا اعتقاد رکھتا ہے مگر بلا عذر شرعی سستی وغیرہ کی وجہ سے اس کو ترک کرتا ہے، ساتھ ہی اس کو عقاب کا خوف بھی ہے، وہ شخص شرعاً فاسق ہے کافر نہیں ہے، اول اس کو سمجھایا جائے اور نماز کی اس کو تاکید کی جائے، اگر مان جائے بہتر ورنہ اس سے تعلقات ترک کر دیئے جائیں حتی کہ تنگ آکر ترک نماز سے توبہ کرلے اور آئندہ مداومت…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔