سجده شکر
سوال
سجدہ نماز وسجدہ تلاوت کے علاوہ زائد سجدۂ شکر کرنا خارج صلوۃ صحیح ہے یا نہیں؟ اگر صحیح ہے تو کس درجہ میں اور اگر نا جائز ہے تو کس درجہ میں، جو شخص نا جائز ہونے کے با وجود تسلیم نہ کرے اور یہ کہے کہ شرعاً جائز ہو یا نا جائز، میرے نزدیک بہتر ہے، ہمیں کسی سے فتویٰ لینے کی ضرورت نہیں تو اس شخص کے لئے کیا حکم ہے؟
جواب
جس وقت کوئی بڑی نعمت حاصل ہو یا کوئی بڑی مصیبت زائل ہو بہتر یہ ہے کہ شکریہ کے لئے دو رکعت ادا کرے اگر یہ نہ ہو تو سجدہ کرنا بھی مفتی بہ قول کی بناء پر مستحب ہے، لیکن نماز کے بعد کرنا مکروہ و ممنوع ہے کہ نا واقف لوگ اس کو مسنون یا واجب اعتقاد کریں گے، اور یہ جواب کہ شرعاً جائز ہو یا نا جائز میرے نزدیک بہتر ہے ہمیں کسی سے فتویٰ لینے کی ضرورت نہیں نہایت سخت اور خطر ناک ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔