الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

تارک نماز کا کیا حکم ہے

سوال

ایک خاص مسئلہ حضور سے دریافت طلب ہے، وہ یہ کہ کچھ لوگ ایسے ہیں جو صرف جمعہ کی نماز پڑھتے ہیں، اور کچھ ایسے بھی ہیں کہ صرف عید و بقر عید کی نماز پڑھتے ہیں اور سال بھر فرض نمازیں اور جمعہ کی نماز بھی نہیں پڑھتے، ان کے لئے شریعت کا کیا مسئلہ ہے وہ مسلمان رہ جاتے ہیں یا نہیں، اگر وہ اس ترک نماز کی حالت میں فوت ہو جائیں تو انکا شریعت کے مطابق مسلمانوں میں شمار ہوگا یا نہیں اور کچھ لوگ کوئی نماز بھی ساری عمر میں نہیں پڑھتے لیکن نماز سے انکار نہیں کرتے، ان کے لئے شریعت کا کیا حکم ہے؟

جواب

نماز فرض عین ہے، جو شخص بلا عذر عمداً نماز ترک کر دے قضاء پڑھنے کی بھی نیت نہ ہو اور خوف عذاب بھی نہ ہو تو فقہاء نے ایسے شخص کی تکفیر کی ہے، جیسا کہ مجمع الانہر میں موجود ہے، اور حدیث میں صاف صاف آیا ہے مَنْ تَرَكَ الصَّلوةَ مُتَعَمِّداً فَقَدْ كَفَرَ جِهَاراً كَمَا فِي الْجَامِعِ الصَّغِير، تاہم ایسے شخص کے ساتھ معاملہ مسلمان ہی جیسا کرنا چاہئے وہ مر جائے تو غسل و کفن و نماز…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو