نماز کے لئے زبردستی کرنا
سوال
دور حاضر میں جب مسلمانوں نے فرائض مذہبی کو قطعی طور پر پس پشت ڈال رکھا ہے، اور ان کو فرائض مذہبی کو انجام دینے کی تنبیہ کی جاوے تو برا مانتے ہیں، اگر کسی محلہ میں سمجھوتہ ہو جائے اور اتفاق ہو جائے کہ جو شخص نماز روزہ ادا نہیں کریگا، اس کو اول تو سمجھانے کی کوشش کیجاوے اس پر بھی نہ مانے تو زدو کوب کر کے ادا کرایا جائے، اور زبردستی نماز پڑھائی جائے، دریافت طلب امر یہ ہے کہ زبر دستی نماز پڑھوانے والوں پر شرعاً گناہ تو صادر نہیں ہوتا۔
جواب
نماز فرض عین ہے اس کا منکر کافر ہے، اور تارک فاسق ہے، یہی حکم روزہ کا ہے، اور احکام شرعیہ کی تبلیغ بھی ضروری ہے، پس بے نمازی کو اولاً مسئلہ بتا کر نرمی سے سمجھانا ضروری ہے، اگر وہ مان جائے اور نماز پڑھنے لگے تو اس پرسختی کی حاجت ہی نہیں اور جو شخص نہ مانے اور اس پر اپنا اثر اور قدرت بھی ہو تو حسب استطاعت شریعت نے اس پر سختی کا بھی حکم فرمایا ہے، بشرطیکہ کوئی فتنہ نہ ہو اگر…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔