الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

وطن اقامت میں قصر

سوال

میرے خویش جناب شیروانی صاحب ڈائرکٹر بورڈ کے چیرمین ہیں ان کا وطن آبائی قدیمی جس میں انہوں نے کبھی سکونت اختیار نہ کی ضلع علی گڑھ میں ہے غیر آباد ہے۔ فیکٹری کی ملکیت میں ایک کوٹھی الہ آباد میں ہے ایک نینی تال میں ایک دہلی میں۔ اہل وعیال کا قیام الہ آباد والی کوٹھی میں ہے اور بظاہر سکونت احباب میں ہے۔ اکثر سفر در پیش رہتا ہے۔ قیام کسی جگہ کم رہتا ہے ایسی صورت میں جب کہ چودہ روز قیام کا ارادہ نہ ہو، دہلی، نینی تال میں قصر کرنا چاہئے یا نہیں؟

جواب

اپنے قدیمی وطن سے اگر کلیہ ہجرت نہیں کی تو وہی وطن اصلی ہے وہاں پہنچ کر نماز پوری پڑھیں گے خواہ ایک ہی دن رہنا ہو۔ مقامات مذکورہ سے اگر کسی جگہ مستقل سکونت کی نیت نہیں، تو جب تک کسی جگہ کم از کم پندرہ روز قیام کی نیت نہ ہو قصر کریں گے اگر مستقل قیام کی نیت ہے تو وہ وطن اصلی ہے وہاں پوری نماز پڑھیں گے۔ محض کوٹھی یا اسباب معیشت کا موجود ہونا وطنیت کے لئے کافی نہیں ہے

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو