سفر میں سنتوں کا قصر
سوال
سفر کی حالت میں جب کہ فرائض نماز کا قصر کیا جائے، سنتوں کا قصر کیا جائے یا وہ پوری پڑھنی چاہئیں یا بحالت سفر قصر فرائض نماز کی حالت میں وہ معاف ہیں یا ان کا نہ پڑھنا نقص نماز کا موجب ہوگا۔ کیوں کہ اگر سنتیں بدستور ہیں تو سفر کی حالت میں صرف فرائض کا قصر کرنا اللہ میاں کی طرف سے پوری اعانت نہ ہوئی۔
جواب
اگر مسافر بر سر سفر ہے اور کسی جگہ نماز کے لئے ہی ٹھہرا ہے تو اس کو سنتیں پڑھنے کی ضرورت اور تاکید نہیں۔ تاہم اگر عجلت نہ ہو تو پڑھنا افضل ہے البتہ اگر کسی جگہ مقیم ہے مثلاً دو، چار روز کے لئے ٹھہرا ہوا ہے تو اس کو پوری سنتیں پڑھنا چاہئیں یہی قول راجح ہے ورنہ اقوال اور بھی ہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔