تراویح میں نا بالغ کی امامت
سوال
ایک لڑکا حافظ قرآن ہے، اس کی عمر اس سال شعبان المعظم ختم ہونے پر چودہ سال نو ماہ ہوگی، بظاہر کوئی علامت بلوغ کی نہیں پائی جاتی تو وہ اس سال رمضان میں تراویح سنا سکتا ہے یا نہیں؟
جواب
اگر اسکو رمضان المبارک آنے سے پہلے احتلام شروع ہو جائے تو اس کو امام بنا کر تراویح اس کے پیچھے پڑھنا درست ہو گا ورنہ نہیں۔ فقط
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔