نابالغ کی امامت تراویح میں
سوال
زید کے لڑکے کی عمر ۱۳ سال ہے حافظ قرآن ہے تراویح میں قرآن پاک سنانا چاہتا ہے نہ سنانے کی حالت میں قرآن پاک بھول جانے کا اندیشہ ہے، اسکی امامت فرض وتراویح میں درست ہے یا نہیں؟
جواب
اگر وہ لڑکا بالغ ہے تب تو اس کے پیچھے فرض اور تراویح سب نمازیں صحیح ہیں، اگر وہ نا بالغ ہے، تو اس کے پیچھے نہ فرض نماز صحیح ہے، نہ تراویح، فرض اور تراویح سب کی امامت کیلئے مفتی بہ قول پر بلوغ شرط ہے اور اس بارہ میں خود لڑکے کا قول معتبر ہوگا، قرآن شریف بھول جانے کے خوف سے نابالغ کا تراویح پڑھانا درست نہیں، البتہ اگر اس کے سب مقتدی بھی نا بالغ ہوں تو امامت درست ہوگی: ولا يصح…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔