جس کو قرآن یاد نہ ہو اس کی تراویح میں امامت
سوال
ایک حافظ صاحب گاؤں میں قرآن شریف سنا رہے تھے ایک رکعت میں کم از کم پانچ دفعہ غلطی کرتے تھے، کچھ لوگوں نے دوسرے حافظ صاحب کا تعین کر دیا آیا ان کا یہ فعل صحیح ہے؟
جواب
جس کو قرآن یاد نہیں ہے اس کو تراویح کے لئے امام نہ بنایا جاوے جس کو یاد ہے اس کو امام بنایا جاوے اتفاقاً کہیں غلطی ہو جائے تو مضائقہ نہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔