وتر کے بعد کی نفل کھڑے ہو کر أفضل ہیں یا بیٹھ کر
سوال
وتر کے بعد نوافل بیٹھ کر پڑھنا موجب زیادہ اجر ہے یا کھڑے ہوکر، چونکہ اس مسئلہ میں صرف عوام ہی مختلف نہیں بلکہ اہل علم کا بھی اختلاف پایا جاتا ہے اس لئے ضرورت ہے کہ اس حکم کو مدلل اور بحوالہ کتب احادیث شریفہ یا فتاویٰ سے وضاحت فرمائیں اور اگر خیر القرون وائمہ مجتہدین سے کسی کا قول و عمل بھی ثابت ہو تو تحریر فرما کر مشکور فرمایا جائے موجب اجر عظیم ہو گا؟
جواب
عبارت منقولہ میں نوافل بعد الوتر کے متعلق تمام اختلافی پہلو اور دلائل آگئے حضرت قاضی ثناء اللہ صاحب پانی پتی نے بیٹھ کر انکو پڑھنا مستحب فرمایا ہے کذا فی مالا بدمنہ حضرت مولانا انورشاہ صاحب کی رائے بھی یہی ہے کذا فی فیض الباری حضرت مولانا رشید احمد صاحب گنگوہی، حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی، حضرت مولانا محمد اسحاق صاحب دہلوی کی تحقیق یہ ہے کہ کھڑے ہو کر پڑھنا موجب زیادہ اجر…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔