الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

ظہر، مغرب، عشاء کے بعد دو نفلیں

سوال

بعض لوگ دو رکعت نفل بعد سنت ظہر اور دو نفل بعد سنت مغرب اور دو نفل بعد سنت عشا کے پڑھتے ہیں جو نہیں پڑھتے ان پر اعتراض کرتے ہیں نہ پڑھنے والے کہتے ہیں کہ ان نوافل کا ثبوت حدیث وفقہ میں نہیں ہے لہٰذا انکا ثبوت مدلل تحریر فرماویں۔

جواب

لہذا نوافل مذکورہ کا انکار نا واقفیت پر مبنی ہے البتہ نوافل و مستحبات کے ساتھ واجبات کا سا معاملہ کرنا نا جائز اور بُرا ہے اس سے اجتناب چاہئے اور ایسی حالت میں کبھی کبھی ترک بھی کر دینا چاہئے اور ان نوافل کے نہ پڑھنے والوں پر اعتراض نہ کرنا چاہئے کیونکہ ان کے پڑھنے سے ثواب ہوتا ہے اور نہ پڑھنے سے کوئی عذاب نہیں ہوتا۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو