عشاء سے قبل اور بعد سنت!
سوال
عشاء کی فرض سے قبل عام طور سے لوگ ۴ رکعت بہ نیت سنت ادا کرتے ہیں، کتب علوم احادیث میں اسکا ثبوت ہے یا نہیں؟ اور حضور اکرم ﷺ سے یہ عمل ثابت ہے یا نہیں؟ کبیری ص ۴۲۷ کی عبارت سے تو اس کی سند نہیں ملتی ملاحظہ ہو وذكر في المحيط: إن تطوع قبل العصر باربع وقبل العشاء بأربع فحسن لأن النبي لم يواظب عليهما اما عدم مواظبته عليه الاسلام على ماقبل العشاء فمقرر بل لم يرو أنه صلاها فضلا عن المواظبة (كبيرى ص (۳۸۸) اما الأربع قبلها فلم يذكر في خصوصها أيضاً ص۴۳۴ اور اسی پر میرا عمل ہے لہذا اگر اس کی کوئی اور سند ہو تو تحریر فرمائیں۔
جواب
(۱) عشاء سے قبل چار رکعت کا ثبوت تلاش کے باوجود حدیث شریف میں نہیں ملا، درایہ ہدایہ کے بعض نسخوں کے حاشیہ پر مطبوع ہے اس میں روایت موجود ہے مگر اس میں وہم ہے کہ اصلی روایت ظہر سے قبل کے متعلق ہے مگر اس میں عشاء سے قبل بھی بیان کر دیا گیا ہے یہ اضافہ وہم ہے اس وجہ سے یہ اضافہ نصب الرایہ، فتح القدیر وغیرہ میں موجود نہیں، صاحب کبیری تلمیذ ہیں صاحب فتح القدیر کے سنن و جوامع و…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔